باوا جان

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - باپ کے لیے پیار یا تعظیم کا کلمہ: تخاطب کے موقع پر۔ "صاف صاف کیوں نہیں کہتے کہ باوا جان تم چھوٹے مکار اور دغا باز ہو۔"      ( ١٩٤٧ء، فرحت، مضامین، ٥:٧ ) ٢ - باپ، والد، بتا۔ "فاقہ مستوں کے باوا جان آگئے کچھ سمجھے کہ کون مہربان آگئے۔"      ( ١٩١٠ء، انتخاب فتنہ، ١٩١ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ اسم 'باوا' کے ساتھ فارسی اسم 'بطور لاحقۂ تخاطب 'جان' لگانے سے مرکب 'باواجان' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨١٨ء کو "کلیات انشا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - باپ کے لیے پیار یا تعظیم کا کلمہ: تخاطب کے موقع پر۔ "صاف صاف کیوں نہیں کہتے کہ باوا جان تم چھوٹے مکار اور دغا باز ہو۔"      ( ١٩٤٧ء، فرحت، مضامین، ٥:٧ ) ٢ - باپ، والد، بتا۔ "فاقہ مستوں کے باوا جان آگئے کچھ سمجھے کہ کون مہربان آگئے۔"      ( ١٩١٠ء، انتخاب فتنہ، ١٩١ )

جنس: مذکر